’عمرہ کے خواہش مند پاکستانی بُکنگ میں جلدی نہ کریں‘

حج و عمرہ ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی عمرہ زائرین عمرہ کی بکنگ میں جلدی نہ کریں۔

’عمرہ کے خواہش مند پاکستانی بُکنگ میں جلدی نہ کریں‘
’عمرہ کے خواہش مند پاکستانی بُکنگ میں جلدی نہ کریں‘

سعودی عرب کی جانب سے سات ماہ بعد عمرے کی اجازت دیے جانے کے بعد پاکستانی عمرہ زائرین کی بڑی تعداد جلد سے جلد عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں لوگ عمرہ ٹور آپریٹرز سے رابطے بھی کر رہے ہیں۔
اس صورت حال میں ٹور آپریٹرز کو اس بات کا خدشہ ہے کہ کچھ ٹور آپریٹرز یا ایجنٹس عمرہ کے خواہش مندوں سے بکنگ کی مد میں پیسے بھی وصول کرلیں گے جو کہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

حج و عمرہ ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی عمرہ زائرین عمرہ کی بکنگ میں جلدی نہ کریں۔ سعودی حکومت نے بیرون ملک سے عمرہ زائرین کے لیے پالیسی مقامی عمرہ زائرین کے انتظامات کی کامیابی سے مشروط کر رکھی ہے۔
الوصام گروپ کے حاجی محمد اسلم نے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ’فی الحال عمرہ کی بکنگ نہیں ہو رہی۔ ابھی تک سعودی حکومت کی جانب سے کچھ بھی واضح پالیسی نہیں دی گئی۔
’ابھی معاہدے نہیں ہوئے، کوئی گارنٹی نہیں گئی۔ ہم لوگ معاہدہ کریں گے، گارنٹی جائے گی اور پھر پاکستان میں سعودی سفارت خانہ ہمارے معاہدوں کی تصدیق کرے گا۔ اس کے بعد ہی بکنگ کا سلسلہ شروع ہوگا۔‘