سعودی عرب نے ’سوئی گیس‘ کے دور میں قدم رکھ دیا

22 سالہ الجافورہ گیس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد سعودی مملکت دُنیا کے گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گی، الجافورہ گیس فیلڈ مملکت کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ ہے

سعودی حکومت نے سوئی گیس کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلہ لے لیا ہے جس کے سعودی عوام اور معیشت دونوں پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ الجافورہ گیس فیلڈ مملکت میں گیس کااب تک دریافت کیا گیا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جس کی لمبائی 170 کلومیٹر ہے اور چوڑائی 100 کلو میٹر ہے۔ اس میں قدرتی گیس کے ذخائر کے حجم کا تخمینہ 200 ٹریلین مکعب فٹ لگایا گیا ہے ۔


یہاں پرپیٹرو کیمیکل صنعتوں کے لیے اعلیٰ معیار کی مائع گیس موجود ہے۔گزشتہ روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت تیل وگیس کے حوالے سے ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں الجافورہ گیس فیلڈ کو ترقی دینے کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گیس فیلڈ کی ترقی کے مراحل آہستہ آہستہ مرحلہ وار آگے بڑھائے جائیں گے۔

العربیہ نیٹ کے مطابق 2036ء میں الجافورہ گیس فیلڈ سے گیس کے اخراج کا تخمینہ 2.2 ٹریلین مکعب فٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ولی عہد نے کہا کہ اس منصوبے کا آغاز ہی قومی آمدنی میں اضافے سے ہوگا۔ اگرچہ اس کی تکمیل میں 22 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے مگر یہ گیس فیلڈ حکومت کے لیے سالانہ 8.6 بلین ڈالر کی خالص آمدنی حاصل کرے گا۔ اس کی تکمیل کے بعد سعودی عرب دنیا کے گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔الجافورہ مملکت میں دریافت ہونے والا سب سے بڑا غیر منسلک گیس فیلڈ سمجھا جاتا ہے۔


اس پراجیکٹ پر تقریباً 110 ارب ڈالر یا 412 ارب ریال کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ الجافورہ گیس گیلڈ سے مرحلہ وار گیس کا اخراج ہوگا اور یہ منصوبہ 2036ء تک پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ تکمیل کے بعد یہ گیس فیلڈ 2۔2 ارب مکعب فیٹ گیس فراہم کرے گا جو کہ مملکت کی موجودہ گیس کی ضرورت کا 25 فی صد ہے۔6۔ اس گیس فیلڈ کی ایک خصوصیت یہ ہوگی کہ یہ فیلڈ یومیہ ایک لاکھ 30 ہزار بیرل ایتھن گیس پیدا کرے گی جو کہ مملکت کو درکار ایتھن گیس کا 40 فی صد ہے۔

اس کے علاوہ پیٹرو کیمیکل صنعتوں کے لیے درکار مائع گیس کی روزانہ تقریبا پانچ لاکھ بیرل گیس مہیا کرے گی جو موجودہ ضرورت کے مطابق 34 فی صد ہے۔الجافورہ گیس فیلڈ میں تکمیل کے بعد سعودی حکومت کو 22 سال بعد سالانہ 32 ارب ریال کی خالص آمدنی حاصل ہوگی۔ اس گیس فیلڈ سے گھریلو استعمال کے لیے تقریبا 20 ارب ڈالر یا 75 ارب ریال کی گیس پیدا کی جائے گی۔ جبکہ اس کے باعث متعدد شعبوں میں شہریوں کو براہ راست اور بالواسطہ ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے۔یہ پراجیکٹ مکمل ہونے کی بعد سعودی عرب تیل کے علاوہ گیس کے میدان میں بھی خود کفیل ہوجائے گا۔

POST A COMMENT.